05/17/2026 | Press release | Archived content
*وزیراعظم محمد شہباز شریف کا عالمی یومِ ٹیلی مواصلات و معلوماتی معاشرہ 17 مئی 2026 پر پیغام*
*وزیراعظم محمد شہباز شریف کا عالمی یومِ ٹیلی مواصلات و معلوماتی معاشرہ
(World Telecommunication and Information Society Day)
17 مئی 2026 پر پیغام*
آج عالمی یومِ ٹیلی مواصلات و معلوماتی معاشرہ(World Telecommunication and Information Society Day) پر میں پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے سے وابستہ تمام افراد، ماہرین ، اداروں، شراکت داروں اور بین الاقوامی معاونین کو انکے پیشہ ورانہ عزم پرخراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
اس سال، عالمی دن کا موضوع "Digital Life lines: Strengthening Resilience in a Connected World" ''ڈیجیٹل لائف لائنز: ایک مربوط دنیا میں مضبوطی و پائیداری کا فروغ'' ہے۔
یہ عنوان ہمارے قومی وژن ''ڈیجیٹل نیشن پاکستان'' سے مکمل ہم آہنگ ہے۔یہ وژن تین بنیادی ستون، ڈیجیٹل معیشت، ڈیجیٹل معاشرہ اور ڈیجیٹل حکومت پر مشتمل ہے۔ جسکے تحت نہایت موثر اقدامات اٹھاۓ جا رہے ہیں۔
نیشنل اے آئی پالیسی 2025 ایک انقلابی اقدام ہے جو پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام کی ترقی کی ضامن ہے۔
حالیہ 5G اسپیکٹرم کی کامیاب اور شفاف نیلامی بلا شبہ "ڈیجیٹل پاکستان'' کی جانب اہم سنگِ میل ہے۔ جس سے ٹیلی کام اور انٹرنیٹ کی سہولیات کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے میں بیش قدر مدد حاصل ہوئی ہے۔ جی ایس ایم اے (GSMA) نے اسے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے قابلِ تقلید نمونہ قرار دیا۔
اب سیلولر موبائل آپریٹرز کے لئے مختص اسپیکٹرم 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر 754 میگا ہرٹز ہو گیا ہے۔ حکومت ملک میں 5G کے مکمل تیز تر نفاذ، قومی فائبرائزیشن پالیسی کی تکمیل اور مقامی ڈیوائس مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔
ٹیلی کمیونیکیشن ہماری معیشت کا بھی نہایت اہم اور فعال شعبہ ہے جس میں تواتر سے بیرونی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقعوں اور سالانہ آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے۔ جو باعث تقویت و اطمینان ہے۔
پاکستان کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ملکی تکنیکی آلات و وسائل کے اثاثوں میں 234,000 کلومیٹر سے زائد فائبر آپٹک بیک بون، جدید 6 سب میرین کیبلز، 58 ہزار سیلولر ٹاورز اور 20 سے زائد جدید ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں۔ یہ تمام سہولیات ملک کے 205 ملین صارفین کو خدمات فراہم کر رہی ہیں۔
مزید براں، اپنی مضبوط سب میرین اور زمینی فائبر استعداد کے باعث پاکستان جنوبی و وسطی ایشیا میں ایک علاقائی ڈیجیٹل مرکز کے طور پر تیزی سے ابھر رہا ہے۔ پاکستان علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر CAREC ڈیجیٹل کوریڈور کی ترقی میں سرگرم عمل ہے۔
مسابقت کے فروغ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایم وی این او (MVNO) فریم ورک بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ جس سے فائبرائزیشن کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ سیٹلائٹ قواعد و ضوابط اور فکسڈ سیٹلائٹ سروسز (FSS) لائسنسنگ پر بھی پیش رفت جاری ہے تاکہ دور دراز علاقوں تک رابطہ بڑھایا جا سکے۔
یونیورسل سروس فنڈ (USF) کے ذریعے پسماندہ علاقوں، قومی شاہراہوں اور سیاحتی مقامات پر میں وائس اور تیز رفتار براڈبینڈ سہولیات کی فراہمی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
پاکستان کا ڈیجیٹل شعبہ بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے، آئی ٹی کی سالانہ برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ ترقی حکومتی فعال پالیسز، ڈیجی اسکلز، INSPIRE (سیمی کنڈکٹر ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ پروگرام) جیسے مہارت افزا اقدامات اور نیشنل انکیوبیشن سینٹرز (NICs) کے مضبوط نظام کی مرہونِ منت ہے۔
آئی ٹی اور سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس اور معاون انفراسٹرکچر، نوجوان اور ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت کے ذریعے پاکستان اس صنعت میں ایک عالمی آئی ٹی مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کررہا ہے۔
پاکستان نے ITU/UN کے سائبر سیکیورٹی انڈیکس میں ٹئیر-1 ''رول ماڈل'' حیثیت حاصل کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے 2024 ای گورنمنٹ ڈویلپمنٹ انڈیکس (EGDI) اور 2026 کے گلوبل آؤٹ سورسنگ ٹیلنٹ انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن میں حالیہ نمایاں بہتری نہایت خوش آئند ہے۔
پاکستان موثر اقدامات کے ذریعےایک مکمل ڈیجیٹل انقلاب کی جانب گامزن ہے جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن (MoITT)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)، سیلولر آپریٹرز اور شعبے سے وابستہ تمام ادارے اور افراد کی محنت اور کاوشیں لائق تحسین ہیں۔
آئیے! ہم سب مل کر بھر پور عزم ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال پاکستان کے خواب کوجلد شرمندہ تعبیر کریں