ISSI - Institute of Strategic Studies Islamabad

03/30/2026 | Press release | Distributed by Public on 03/30/2026 08:10

پریس ریلیز-آئی ایس ایس آئی میں گول میز مذاکرہ: “سفیر سرور عظیموف کی یاد...

پریس ریلیز-آئی ایس ایس آئی میں گول میز مذاکرہ: "سفیر سرور عظیموف کی یاد میں - سفارتکاری اور پاکستان-سوویت تعلقات (1974-1980)"

March 30, 2026
16

پریس ریلیز
آئی ایس ایس آئی میں گول میز مذاکرہ: "سفیر سرور عظیموف کی یاد میں -
"سفارتکاری اور پاکستان-سوویت تعلقات (1974-1980)

مارچ 30 2026

انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) نے اپنے سینٹر فار اسٹریٹیجک پرسپیکٹوز (سی ایس پی) کے ذریعے، اسلام آباد میں روسی فیڈریشن کے سفارت خانے کے اشتراک سے "سفیر سرور عظیموف کی یاد میں - سفارتکاری اور پاکستان-سوویت تعلقات (1974-1980)" کے عنوان سے ایک گول میز مذاکرے کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں سینئر سفارتکاروں، ماہرینِ تعلیم اور پالیسی کمیونٹی کے اراکین نے شرکت کی، جہاں پاکستان-سوویت تعلقات کے ایک اہم دور اور سفیر سرور عظیموف کی پائیدار میراث پر غور کیا گیا۔

ڈاکٹر نیلم نگار، ڈائریکٹر سی ایس پی نے اپنے ابتدائی کلمات میں عالمی عدم استحکام اور باہمی اعتماد میں کمی کے تناظر میں سفارتی ورثے کا ازسرِنو جائزہ لینے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ پر غور و فکر پیچیدہ بین الاقوامی حالات میں مکالمے اور تعاون کو برقرار رکھنے کے لیے اہم رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔

سفیر خالد محمود، چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں اس مذاکرے کو ایک یادگاری اور تجزیاتی سرگرمی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سفیر عظیموف نے سرد جنگ کے تناؤ، علاقائی تبدیلیوں اور اسٹریٹیجک غیر یقینی صورتحال کے دور میں خدمات انجام دیں، جہاں سفارتکاری صبر، باریک بینی اور قومی مفادات کی گہری سمجھ کی متقاضی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان-روس تعلقات مختلف مراحل سے گزرے ہیں، جن میں احتیاط اور فاصلے سے لے کر تدریجی روابط اور معمول پر آنے کا سفر شامل ہے، اور اس تاریخی تجربے کا جائزہ مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے ضروری ہے۔

روسی فیڈریشن کے سفیر البرٹ پی خوریف نے مرحوم سفیر سرور عظیموف کی علمی گہرائی اور سفارتی مہارت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے 1970 کی دہائی میں پاکستان-سوویت تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کے کردار کو اجاگر کیا، جب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو متنوع بنایا۔ انہوں نے کراچی اسٹیل ملز اور اہم تھرمل پاور پلانٹس جیسے سوویت تعاون سے مکمل ہونے والے منصوبوں کو پاکستان کی صنعتی ترقی اور معاشی خود انحصاری میں کلیدی قرار دیا۔

سفیر خوریف نے مزید کہا کہ علاقائی اور سیاسی چیلنجز کے باوجود سفیر عظیموف نے دوطرفہ تعلقات میں تسلسل برقرار رکھا، جبکہ 1973 سے 1980 کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انہوں نے عوامی روابط، ادارہ جاتی تعاون، اور پاکستانی انجینئرز کی تربیت کے لیے سوویت تکنیکی معاونت کو دیرپا شراکت داری کی بنیاد قرار دیا۔

سفیر انور ایس عظیموف، جو کہ ایک ممتاز روسی سفارتکار اور مرحوم سفیر سرور عظیموف کے صاحبزادے ہیں، نے اپنے خطاب میں ذاتی مشاہدات اور اسٹریٹیجک بصیرت کو یکجا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی طور پر پاکستان اور سوویت یونین کے تعلقات تعمیری نوعیت کے حامل رہے، باوجود اس کے کہ بڑی طاقتوں کے جغرافیائی سیاسی دباؤ موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہمیشہ قومی مفادات اور مشترکہ ترقیاتی اہداف کے تحت تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کی۔

انہوں نے سوویت یونین کی جانب سے پاکستان کو ابتدائی طور پر تسلیم کرنے اور 1965-66 کی پاک-بھارت جنگ کے دوران تاشقند عمل کے ذریعے مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے کردار کو بھی اجاگر کیا، جو علاقائی استحکام کے لیے ماسکو کے عزم کا مظہر تھا۔

اپنے والد کے سفارتی انداز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سفیر سرور عظیموف نے اعتماد سازی، باہمی احترام اور سیاسی اختلافات کے باوجود رابطے کو ترجیح دی، جس کی بدولت وہ پاکستان کی مختلف قیادتوں کے ساتھ مؤثر تعلقات قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی حکمت عملی جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باوجود تعاون کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوئی۔

انہوں نے پاکستان کی صنعتی اور معاشی ترقی میں سوویت تعاون، خصوصاً اسٹیل، توانائی اور تکنیکی تربیت کے شعبوں میں کردار کو بھی سراہا، اور امید ظاہر کی کہ ان تاریخی بنیادوں کو موجودہ دور میں پاکستان-روس تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔

اختتامی کلمات میں سفیر عظیموف نے کہا کہ اگرچہ دوطرفہ تعلقات مثبت ہیں، تاہم مشترکہ مفادات اور باہمی احترام کی بنیاد پر مزید تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

بعد ازاں ہونے والے مباحثے میں ماہرین نے سفیر سرور عظیموف کی خدمات اور پاکستان-سوویت تعلقات کے ارتقا پر مختلف آراء پیش کیں۔ شرکاء نے سرد جنگ کے دور کی پابندیوں سے لے کر موجودہ دور کے تعاون تک تعلقات کی ترقی کو اجاگر کیا، اور توانائی، روابط اور علاقائی کثیرالجہتی فریم ورکس میں تعاون کے بڑھتے ہوئے امکانات پر روشنی ڈالی۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخی جائزہ صرف یادگاری عمل نہیں بلکہ موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ تقریب کا اختتام شکریہ کے کلمات اور معزز مقررین میں یادگاری شیلڈز کی تقسیم کے ساتھ ہوا۔

ISSI - Institute of Strategic Studies Islamabad published this content on March 30, 2026, and is solely responsible for the information contained herein. Distributed via Public Technologies (PUBT), unedited and unaltered, on March 30, 2026 at 14:11 UTC. If you believe the information included in the content is inaccurate or outdated and requires editing or removal, please contact us at [email protected]